اساتذہ اور مشائخ کے حقوق
‼اساتذہ اور مشائخ کے حقوق‼
ہمارے معاشرے میں بہت لوگ ایسے ہیں جو دین کی تعلیم وتعلم، درس وتدریس، وعظ ونصیحت، دعوت وارشاد یا بحث وتحقیق میں اپنے اوقات کا ایک بڑا حصہ لگا دیتے ہیں۔
ایک محقق یا ریسرچر کی مثال لے لیں۔ کوئی ایک صاحب انہیں ایک حدیث کے بارے کہتے ہیں کہ اس کا حوالہ چاہیے جبکہ ایک دوسرے صاحب ان سے ایک دوسری حدیث کی صحت کے بارے معلوم کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک تیسرا دوست ان سے اپنے ایک مضمون کی اصلاح مانگ رہا ہے تو چوتھے صاحب کسی مسئلے میں تحریری فتوی کے طلبگار ہیں۔ اب ہر ایک کےنزدیک انہوں نے ان سے ایک ہی کام کہا ہے لیکن ہر ایک کو یہ معلوم نہیں سوائے محقق کے کہ انہیں کتنے لوگوں نے ایک ہی دن میں کتنے کام کہے ہیں یا وہ اپنی ملازمت، گھر بار اور اپنی روٹین کی منظم دینی مصروفیات کے علاوہ کتنا وقت اس قسم کی دینی خدمات کے لیے نکال سکتے ہیں؟
ایک عالم کی مثال لے لیں۔ ان سے موبائل پر مسئلہ پوچھنے والا شخص ایک ہی مسئلہ پوچھتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ اس دن میں بیسواں شخص ہے، جو اس عالم دین سے ایک مسئلہ پوچھ رہا ہے۔ اس لیے بعض اوقات ایسے علماء یا داعیان دین کہ جن کی طرف لوگ کثرت سے رجوع کرتے ہیں، سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے موبائل اکثر بند رہتے ہیں یا وہ اپنا موبائل نہیں اٹھاتے۔ تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی اپنی ذاتی یا گھریلو زندگی تو بالکل ختم ہو ہی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ان کی منظم دینی مصروفیات بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک عالم دین نے بتلایا کہ ان کا گھر میں اپنی اہلیہ سے اکثر یہ اختلاف رہتا ہے کہ ان کا موبائل گھر میں داخل ہونے کے بعد آف رہنا چاہیے کیونکہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ یہ ان کا وقت ہے جو وہ دوسرے لوگوں کو دے دیتے ہیں۔ اہلیہ اور بچوں کا موقف ہے کہ اہل خانہ کا وقت یعنی ان کا حق، لوگوں کو دینا کس طرح جائز ہے اور وہ بھی دین کے نام پر؟
ایسے میں ان لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے جو ایسے مدرسین، علماء، داعیان دین یا واعظین کی طرف کسی مسئلہ میں رجوع کرتے ہیں کہ ان سے اس قدر اصرار نہ کریں کہ وہ اپنی ذات میں تنگ ہو کر مروت میں آپ کا کوئی کام کریں بلکہ کسی مطالبے کے اظہار میں ہمیشہ ایسا انداز اختیار کریں کہ وہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں اور اگر کسی کام سے ناں بھی کرنا چاہیں تو سہولت سے ناں کر سکیں اور ان کی ناں کو محسوس بھی نہ کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں